سلام کرنے کا بہترین طریقہ
Bismillahir Rahmanir Raheem
Toggleسلام: صرف الفاظ نہیں، حسنِ اخلاق کا مکمل پیغام
اگر کوئی شخص ہمیں مسکراتے ہوئے، محبت اور احترام کے ساتھ السلام علیکم کہے، اور ہم اسے سرد چہرے، بے دلی، یا صرف رسم پوری کرنے کے انداز میں جواب دیں، تو یہ قرآن کے حکم “فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا” کے مزاج کے مطابق نہیں لگتا۔
اسلام میں سلام صرف زبان کا لفظ نہیں، بلکہ دعا، نرمی، بشاشت، احترام اور بھائی چارے کا اظہار ہے۔
قرآن کا حکم: جواب بہتر دو، یا کم از کم ویسا ہی
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا
ترجمہ:
اور جب تمہیں کوئی تحیہ/سلام دیا جائے تو تم اس سے بہتر جواب دو، یا کم از کم ویسا ہی جواب لوٹا دو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔
حوالہ: سورۃ النساء: 86
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آیت میں لفظ “تحیۃ” استعمال ہوا ہے۔ تحیۃ کا مطلب صرف سلام کے الفاظ نہیں، بلکہ ادب کے ساتھ ملنا، سلام کرنا، دعا دینا، عزت سے مخاطب کرنا، اور اچھے انداز سے استقبال کرنا بھی ہے۔
تحیۃ کا براہِ راست معنی صرف “خوش آمدید” نہیں، بلکہ اس کا وسیع مفہوم احترام کے ساتھ greeting / سلام و دعا ہے۔ اس لیے خوش آمدید کہنا بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب کسی کا استقبال کیا جا رہا ہو۔
تحیۃ میں الفاظ کے ساتھ انسان کا انداز، چہرے کی بشاشت، مسکراہٹ، لہجہ، محبت اور احترام بھی شامل ہوتے ہیں۔
سلام تحیۃ کا آغاز ہے، مگر تحیۃ صرف زبان سے مکمل نہیں ہوتی؛ یہ اچھے الفاظ، اچھے لہجے اور اچھے اخلاق سے مکمل ہوتی ہے
سلام کے الفاظ بڑھانے کا اجر
مفسرین نے اس آیت کی وضاحت میں لکھا ہے کہ اگر کوئی السلام علیکم کہے تو بہتر جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ہے، اور اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو بہتر جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہے۔
اس معنی کی تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا:
السلام علیکم
آپ ﷺ نے جواب دیا، پھر فرمایا: دس۔
دوسرے شخص نے کہا:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ ﷺ نے فرمایا: بیس۔
تیسرے شخص نے کہا:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ ﷺ نے فرمایا: تیس۔
یعنی سلام کے الفاظ میں اضافہ کرنے سے اجر بھی بڑھتا ہے۔
حوالہ: سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، ریاض الصالحین، حدیث: 850
اگر کوئی پہلے ہی مکمل سلام کہہ دے تو؟
اگر کوئی شخص پہلے ہی مکمل سلام کہہ دے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تو پھر الفاظ میں اس سے زیادہ کیا اضافہ کیا جائے؟
یہاں آیت کا وسیع پیغام سمجھ میں آتا ہے۔ اگر الفاظ میں اضافہ ممکن نہ ہو تو انداز میں اضافہ کیا جا سکتا ہے: زیادہ محبت، زیادہ بشاشت، نرم لہجہ، گرمجوشی، اور بہتر اخلاق کے ساتھ جواب دیا جا سکتا ہے۔
اس لیے “بہتر جواب” کا مطلب صرف الفاظ بڑھانا نہیں، بلکہ کبھی کبھی بہتر مسکراہٹ، بہتر لہجہ، بہتر چہرہ، اور بہتر اخلاق بھی ہوتا ہے۔
اگر کوئی آپ کو خوش دلی سے سلام کرے، تو جواب بھی خوش دلی سے ہونا چاہیے۔ سرد چہرے سے دیا گیا جواب شاید الفاظ میں درست ہو، مگر تحیۃ کے حسن کو مکمل نہیں کرتا۔
نبی کریم ﷺ کی گفتگو میں مسکراہٹ
حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ جب کوئی حدیث بیان کرتے تو مسکراتے۔ انہوں نے پوچھا کہ مجھے ڈر ہے لوگ آپ کو کمزور نہ سمجھیں۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
مَا رَأَيْتُ أَوْ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يُحَدِّثُ حَدِيثًا إِلَّا تَبَسَّمَ
ترجمہ:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو جب بھی حدیث بیان کرتے دیکھا یا سنا، آپ ﷺ مسکراتے تھے۔
حوالہ: مسند احمد، حدیث: 21732۔
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی گفتگو میں بھی نرمی، بشاشت اور مسکراہٹ شامل ہوتی تھی۔ پھر سلام تو ویسے بھی محبت، دعا اور اخوت کا پیغام ہے؛ اسے سرد چہرے کے ساتھ نہیں بلکہ زندہ دل، نرم اور خوش اخلاق انداز میں لوٹانا چاہیے۔
سلام میں پہل کرنا اللہ کے قرب کا راستہ ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِاللَّهِ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلَامِ
ترجمہ:
اللہ کے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرتا ہے۔
حوالہ: سنن ابی داؤد، ریاض الصالحین، حدیث: 858
سلام میں پہل کرنا کمزوری نہیں، بلکہ اللہ کے قریب ہونے کی علامت ہے۔ جو پہلے سلام کرتا ہے، وہ تکبر کو توڑتا ہے، محبت کی ابتدا کرتا ہے، اور دلوں کے دروازے کھولتا ہے۔
مصافحہ اور خوش اخلاقی
مصافحہ کے بارے میں یہ روایت بھی نقل کی جاتی ہے:
إِذَا تَصَافَحَ الْمُؤْمِنَانِ نَزَلَتْ عَلَيْهِمَا مِائَةُ رَحْمَةٍ، تِسْعٌ وَتِسْعُونَ لِأَبَشِّهِمَا وَأَحْسَنِهِمَا خُلُقًا
ترجمہ:
جب دو مؤمن آپس میں مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں پر سو رحمتیں نازل ہوتی ہیں؛ ان میں سے ننانوے رحمتیں اس شخص کے لیے ہوتی ہیں جو ان دونوں میں زیادہ خوش مزاج اور زیادہ اچھے اخلاق والا ہو۔ حوالہ: مجمع الزوائد، 8/37؛ المعجم الأوسط للطبرانی
اس روایت کے بارے میں امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں فرمایا کہ اسے طبرانی نے الأوسط میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں الحسن بن كثير بن عدي ہے، جسے وہ نہیں جانتے، جبکہ باقی راوی صحیح کے راوی ہیں۔
اس روایت کا پیغام بہرحال بہت خوبصورت ہے: مصافحہ صرف ہاتھ ملانے کا نام نہیں، بلکہ اصل خوبصورتی بشاشت، محبت، خوش اخلاقی، اور دل کی نرمی میں ہے۔
اصل پیغام
اسلام ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتا کہ سلام کرو؛ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سلام کو خوبصورت بنا دو۔
سلام میں پہل کرو۔
الفاظ اچھے کرو۔
لہجہ نرم رکھو۔
چہرہ روشن رکھو۔
دل میں محبت رکھو۔
اور جواب ایسا دو کہ سامنے والے کا دل خوش ہو جائے۔
یہی قرآن کے حکم:
فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا
کا خوبصورت پیغام ہے۔
سلام صرف الفاظ نہیں، بلکہ مسلمان کے دل، اخلاق، محبت اور ایمان کا اظہار ہے۔
